فیض احمد فیض کا تعارف
تفصیلی سوانح:
فیض احمد فیض 13 فروری 1911 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ چرچ مشن اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ لاہور کے معروف گورنمنٹ کالج پہنچے، جہاں سے انہوں نے انگریزی اور عربی ادبیات میں ایم اے کیا۔ انہوں نے اپنے کیریئر کا آغاز ایم اے او کالج امرتسر میں انگریزی کے لیکچرر کے طور پر کیا۔ ترقی پسند تحریک اور صحافت: 1936 میں ترقی پسند تحریک کے قیام کے ساتھ ہی فیض اس کا ایک بنیادی ستون بن کر ابھرے۔ انہوں نے دکھِ عشق اور غمِ روزگار کو ایک ہی فکری لڑی میں پرو دیا۔ 1939 میں ان کا پہلا مجموعہ 'نقشِ فریادی' شائع ہوا تو ادبی دنیا میں ان کی مقبولیت کا ڈنکا بج گیا۔ وہ 'ادبِ لطیف'، 'دی پاکستان ٹائمز' اور 'امروز' جیسے معتبر اداروں کے مدیر بھی رہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران انہوں نے فاشزم کے خلاف فوج میں بھی خدمات انجام دیں۔ سیاسی ابتلا اور قید و بند: قیامِ پاکستان کے بعد انہوں نے مزدوروں کے حقوق کی علمداری کی۔ 9 مارچ 1951 کو راولپنڈی سازش کیس کے تحت انہیں گرفتار کر کے حیدرآباد جیل میں قید رکھا گیا۔ اسی قید کے دوران ان کے دو عظیم مجموعے 'دستِ صبا' اور 'زنداں نامہ' تخلیق ہوئے۔ عالمگیر مقبولیت اور شعری سرمایہ: فیض غزل اور نظم دونوں اصناف کے استاد تسلیم کیے جاتے ہیں۔ 1962 میں انہیں عالمی 'لینن امن انعام' سے نوازا گیا۔ ان کے اہم مجموعوں میں 'دستِ تہِ سنگ'، 'سرِ وادیِ سینا'، 'شامِ شہرِ یاراں' اور 'میرے دل میرے مسافر' شامل ہیں، جو ان کی کلیات 'نسخہ ہائے وفا' میں محفوظ ہیں۔ 20 نومبر 1984 کو لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔



