Yaad Use Intehai Karte Hain
یاد اسے انتہائی کرتے ہیں
याद उसे इंतिहाई करते हैं
غزل
۱ منٹ کا مطالعہیاد اسے انتہائی کرتے ہیں
سو ہم اس کی برائی کرتے ہیں
Yaad use intehai karte hain
So hum uss ki buraai karte hain
याद उसे इंतिहाई करते हैं
सो हम उस की बुराई करते हैं
پسند آتا ہے دل سے یوسف کو
وہ جو یوسف کے بھائی کرتے ہیں
Pasand aata hai dil se Yusuf ko
Woh jo Yusuf ke bhai karte hain
ہے بدن خواب وصل کا دنگل
آؤ زور آزمائی کرتے ہیں
اس کو اور غیر کو خبر ہی نہیں
ہم لگائی بجھائی کرتے ہیں
Uss ko aur ghair ko khabar hi nahin
Hum lagaai bujhaai karte hain
उस को और ग़ैर को ख़बर ही नहीं
हम लगाई बुझाई करते हैं
ہم عجب ہیں کہ اس کی بانہوں میں
شکوۂ نارسائی کرتے ہیں
Hum ajab hain ke uss ki baanhon mein
Shikwa-e-naarsaai karte hain
हम अजब हैं कि उस की बाहों में
शिकवा-ए-नारसाई करते हैं
حالت وصل میں بھی ہم دونوں
لمحہ لمحہ جدائی کرتے ہیں
Haalat-e-wasl mein bhi hum dono
Lamha lamha judaai karte hain
آپ جو میری جاں ہیں میں دل ہوں
مجھ سے کیسے جدائی کرتے ہیں
Aap jo meri jaan hain main dil hoon
Mujh se kaise judaai karte hain
आप जो मेरी जाँ हैं मैं दिल हूँ
मुझ से कैसे जुदाई करते हैं
با وفا ایک دوسرے سے میاں
ہر نفس بے وفائی کرتے ہیں
جو ہیں سرحد کے پار سے آئے
وہ بہت خود ستائی کرتے ہیں
Jo hain sarhad ke paar se aaye
Woh bohot khud-sitaai karte hain
जो हैं सरहद के पार से आए
वो बहुत ख़ुद-सिताई करते हैं

جون ایلیا بیسویں صدی کے ان ممتاز ترین اور منفرد جدید شعرا میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی باغیانہ طبیعت، انوکھے اسلوب اور تلخ نوائی کے سبب عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔