Zakhm-e-Ummeed Bhar Gaya Kab Ka
زخم امید بھر گیا کب کا
ज़ख़्म-ए-उम्मीद भर गया कब का
غزل
۱ منٹ کا مطالعہزخم امید بھر گیا کب کا
قیس تو اپنے گھر گیا کب کا
Zakhm-e-ummeed bhar gaya kab ka
Qais to apne ghar gaya kab ka
ज़ख़्म-ए-उम्मीद भर गया कब का
क़ैस तो अपने घर गया कब का
اب تو منہ اپنا مت دکھاؤ مجھے
ناصحو میں سدھر گیا کب کا
Ab to munh apna mat dikhao mujhe
Naasiho main sudhar gaya kab ka
آپ اب پوچھنے کو آئے ہیں
دل مری جان مر گیا کب کا
Aap ab poochne ko aaye hain
Dil meri jaan mar gaya kab ka
आप अब पूछने को आए हैं
दिल मेरी जान मर गया कब का

جون ایلیا1931–2002
جون ایلیا بیسویں صدی کے ان ممتاز ترین اور منفرد جدید شعرا میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی باغیانہ طبیعت، انوکھے اسلوب اور تلخ نوائی کے سبب عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔