احمد فراز کا تعارف
تفصیلی سوانح:
سید احمد شاہ کوہاٹ، خیبر پختونخوا میں پیدا ہوئے اور ادبی دنیا میں 'فراز' کے تخلص سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے پشاور یونیورسٹی سے اردو اور فارسی میں ماسٹرز کیا، جہاں کے ادبی ماحول نے ان کی خداداد صلاحیتوں کو نکھارا۔ اسلوب اور فکری مزاج: فراز کو جدید دور کا سب سے بڑا رومانوی شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔ انہوں نے فیض احمد فیض کی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے محبت کے لطیف جذبوں اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف مزاحمت کو اپنی غزلوں کا حصہ بنایا۔ جلاوطنی اور مزاحمت: ضیاء الحق کے دورِ آمریت میں ان کے انقلابی کلام اور بے باک سیاسی مؤقف کی وجہ سے انہیں قید اور بعد ازاں خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنی پڑی۔ انہوں نے کئی سال برطانیہ، کینیڈا اور یورپ میں گزارے، مگر ان کا قلم ہمیشہ جبر کے خلاف لکھتا رہا۔ ادبی خدمات اور پہچان: فراز نے اکادمی ادبیات پاکستان کے بانی ڈائریکٹر جنرل اور بعد ازاں نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد کے چیئرمین کے طور پر گراں قدر خدمات انجام دیں۔ 'تنہا تنہا'، 'دردِ آشوب'، 'نایافت' اور 'جاناں جاناں' جیسے شاہکار مجموعے ان کی ابدی پہچان ہیں۔ 2008 میں اسلام آباد میں ان کا انتقال ہوا۔



