Amjad Islam Amjad — Poet

امجد اسلام امجد

1944 — 2023

امجد اسلام امجد اردو کے وہ نامور اور ہر دلعزیز شاعر اور ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے اپنی پُر اثر شاعری اور ٹیلی ویژن کے لازوال ڈراموں کے ذریعے برصغیر کے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔

امجد اسلام امجد کا تعارف

پیدائش: 1944
وفات: 2023
قلمی نام: امجد
اصل نام: امجد اسلام
شہر/علاقہ: لاہور، پاکستان (پیدائش: سیالکوٹ)

تفصیلی سوانح:

امجد اسلام امجد 4 اگست 1944 کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش اور تعلیم لاہور میں ہوئی، جہاں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے اردو ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ تعلیم کے بعد انہوں نے تدریسی شعبے سے وابستگی اختیار کی اور کادِت کالج حسن ابدال اور اسلامیہ کالج لاہور میں بطور لیکچرر خدمات انجام دیں۔ ادبی اور فنی سفر: امجد صاحب نے غزل، نظم، اور بالخصوص آزاد نظم میں ایک منفرد اور پہچانا ہوا اسلوب تخلیق کیا۔ ان کی شاعری میں رومانوی لطافت کے ساتھ ساتھ زندگی کی گہرائی، سماجی مسائل، اور انسانی جذبات کی عکاسی ملتی ہے۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ 'فشار' شائع ہوا تو ادبی حلقوں میں ان کی دھوم مچ گئی، جس کے بعد 'برزخ', 'تسخیر', 'اس پار' اور 'شارقہ' جیسے مجموعے منظرِ عام پر آئے۔ ٹیلی ویژن ڈرامے اور شاہکار تخلیقات: شاعری کے علاوہ امجد اسلام امجد کو پاکستان ٹیلی ویژن کے سنہری دور کے معماروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کے لکھے ہوئے ڈرامے، بالخصوص 'وارث' (1979)، نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیے اور پاکستان ٹی وی کی تاریخ کا سب سے بڑا شاہکار تسلیم کیا گیا۔ اس کے علاوہ 'فشار'، 'دہلیز'، 'سمندر' اور 'آپ کی تعریف' جیسے ڈراموں نے معاشرتی اور سیاسی عکاسی کا ایک نیا معیار قائم کیا۔ اعزازات اور وفات: ان کی گراں قدر ادبی اور فنی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان نے انہیں 'تمغۂ حسنِ کارکردگی' (Pride of Performance) اور 'ستارۂ امتیاز' سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہیں نگار ایوارڈز سمیت کئی بین الاقوامی اور قومی اعزازات بھی ملے۔ اردو ادب کا یہ آفتاب 10 فروری 2023 کو لاہور میں غروب ہوا، مگر ان کا کلام اور ان کے ڈرامے آج بھی زندہ ہیں۔