خواجہ میر درد کا تعارف
تفصیلی سوانح:
خواجہ میر درد 1721 میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کے آبا و اجداد بخارا سے ہجرت کر کے ہندوستان آئے تھے۔ ان کے والد ایک شاہی منصب دار تھے جنہوں نے دنیاوی عہدہ چھوڑ کر صوفیانہ زندگی اختیار کی۔ درد نے اپنے والد کی زیرِ سرپرستی علومِ دینیہ اور تصوف کی گہری تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی دہلی میں گزاری اور نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملوں کے ساتھ ساتھ دہلی کی تباہی کے ہولناک مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ تصوف اور فکری وژن: درد نقشبندی مجددی سلسلے کے ایک اہم مبلغ اور صوفی تھے۔ وہ "طریقہ محمدی" کے بانی اور نظریاتی رہنما مانے جاتے تھے کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی کو سنتِ نبوی کے سانچے میں ڈھالا تھا۔ ان کا دربار شاہی اور امرا دونوں میں یکساں طور پر قابلِ احترام تھا۔ وہ موسیقی کے بھی ماہر تھے اور صوفیانہ محفلِ سماع کا انعقاد کیا کرتے تھے، جس کا اثر ان کے کلام کے لے اور آہنگ پر بھی واضح نظر آتا ہے۔ شعری و نثری خدمات: درد کو عربی، فارسی اور اردو پر یکساں عبور حاصل تھا۔ ان کی شاعری میں قرآن و سنت کا نور اور تصوف کی سچائی رچی بسی ہے۔ وہ شاعری کو انسان کی ایک صلاحیت اور الہامی کلام سمجھتے تھے۔ ان کے اردو دیوان کے علاوہ فارسی دیوان، نثری کتاب 'علم الكتاب'، صوفیانہ ارشادات کا مجموعہ 'چہار رسالہ' اور طریقۂ محمدی سے متعلق تصانیف یادگار ہیں۔ 1785 میں دہلی میں ان کا انتقال ہوا۔



