Sara Shehar Bilakta Hai

سارا شہر بلکتا ہے

सारा शहर बिलकता है

غزل

۱ منٹ کا مطالعہ

سارا شہر بلکتا ہے
پھر بھی کیسا سکتہ ہے

Sara shehar bilakta hai
Phir bhi kaisa sakta hai

सारा शहर बिलकता है
फिर भी कैसा सकता है

گلیوں میں بارود کی بو
یا پھر خون مہکتا ہے

Galiyon mein baarood ki boo
Ya phir khoon mehakta hai

गलियों में बारूद की बू
या फिर ख़ून महकता है

سب کے بازو یخ بستہ
سب کا جسم دہکتا ہے

Sab ke baazu yakh-basta
Sab ka jism dehakta hai

सब के बाज़ू यख़-बस्ता
सब का जिस्म दहकता है

ایک سفر وہ ہے جس میں
پاؤں نہیں دل تھکتا ہے

Ek safar wo hai jis mein
Paaon nahi dil thakta hai

एक सफ़र वो है जिसमें
पाँव नहीं दिल थकता है


 احمد فراز

احمد فراز جدید اردو غزل کے وہ مقبول ترین رومانوی شاعر ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت اور جدید حسیت کو یکجا کیا، اور آمریت کے خلاف بے خوف مزاحمت کی۔

مکمل پروفائل دیکھیں →

ہوم →

تبصرے

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…