Ek Saaya Mira Maseeha Tha
ایک سایہ مرا مسیحا تھا
एक साया मिरा मसीहा था
غزل
۱ منٹ کا مطالعہایک سایہ مرا مسیحا تھا
کون جانے وہ کون تھا کیا تھا
Ek saaya mira maseeha tha
Kaun jaane woh kaun tha kya tha
وہ فقط صحن تک ہی آتی تھی
میں بھی حجرے سے کم نکلتا تھا
Woh faqat sehan tak hi aati thi
Main bhi hujre se kam nikalta tha
تجھ کو بھولا نہیں وہ شخص کہ جو
تیری بانہوں میں بھی اکیلا تھا
Tujh ko bhoola nahin woh shakhs ke jo
Teri baanhon mein bhi akela tha
तुझ को भूला नहीं वो शख़्स कि जो
तेरी बाँहों में भी अकेला था
جان لیوا تھیں خواہشیں ورنہ
وصل سے انتظار اچھا تھا
Jaan-leva theen khwahishein warna
Wasl se intezaar achha tha
जान-लेवा थीं ख़्वाहिशें वर्ना
वस्ल से इंतिज़ार अच्छा था
بات تو دل شکن ہے پر یارو
عقل سچی تھی عشق جھوٹا تھا
Baat to dil-shikan hai par yaaro
Aql sachi thi ishq jhoota tha

جون ایلیا بیسویں صدی کے ان ممتاز ترین اور منفرد جدید شعرا میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی باغیانہ طبیعت، انوکھے اسلوب اور تلخ نوائی کے سبب عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔