Ji Hi Ji Mein Woh Jal Rahi Hogi
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
जी ही जी में वो जल रही होगी
غزل
۱ منٹ کا مطالعہجی ہی جی میں وہ جل رہی ہوگی
چاندنی میں ٹہل رہی ہوگی
Ji Hi Ji Mein Woh Jal Rahi Hogi
Chandni Mein Tehal Rahi Hogi
چاند نے تان لی ہے چادر ابر
اب وہ کپڑے بدل رہی ہوگی
Chaand Ne Taan Li Hai Chaadar-e-Abr
Ab Woh Kapde Badal Rahi Hogi
चाँद ने तान ली है चादर-ए-अब्र
अब वो कपड़े बदल रही होगी
سو گئی ہوگی وہ شفق اندام
سبز قندیل جل رہی ہوگی
سرخ اور سبز وادیوں کی طرف
وہ مرے ساتھ چل رہی ہوگی
Surkh Aur Sabz Waadiyon Ki Taraf
Woh Mere Saath Chal Rahi Hogi
چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
اب وہ کروٹ بدل رہی ہوگی
Chadhte Chadhte Kisi Pahaadi Par
Ab Woh Karwat Badal Rahi Hogi
चढ़ते चढ़ते किसी पहाड़ी पर
अब वो करवट बदल रही होगी
پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر
وہ تنے سے پھسل رہی ہوگی

جون ایلیا بیسویں صدی کے ان ممتاز ترین اور منفرد جدید شعرا میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی باغیانہ طبیعت، انوکھے اسلوب اور تلخ نوائی کے سبب عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔