Khuli Aankhon Mein Sapna Jhaankta Hai
کھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
खुली आँखों में सपना झाँकता है
غزل
۱ منٹ کا مطالعہکھلی آنکھوں میں سپنا جھانکتا ہے
وہ سویا ہے کہ کچھ کچھ جاگتا ہے
Khuli aankhon mein sapna jhaankta hai
Woh soya hai ke kuchh kuchh jaagta hai
खुली आँखों में सपना झाँकता है
वो सोया है कि कुछ कुछ जागता है
تری چاہت کے بھیگے جنگلوں میں
مرا تن مور بن کر ناچتا ہے
Tiri chahat ke bheege jungalon mein
Mira tan mor ban kar naachta hai
مجھے ہر کیفیت میں کیوں نہ سمجھے
وہ میرے سب حوالے جانتا ہے
Mujhe har kaifiyat mein kyun na samjhe
Woh mere sab hawale jaanta hai
میں اس کی دسترس میں ہوں مگر وہ
مجھے میری رضا سے مانگتا ہے
Main uss ki dast-ras mein hoon magar woh
Mujhe meri raza se maangta hai

پروین شاکر اردو کی ایک ایسی ممتاز اور ندرت آفریں شاعرہ تھیں جنہوں نے نسوانی احساسات، محبت کی شدت اور سماجی جبر کے خلاف بے باک آواز اٹھا کر نسوانی غزل کو ایک نیا اور جدید جہت عطا کی۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔