Kab Uska Visaal Chahiye Tha
کب اس کا وصال چاہیے تھا
कब उसका विसाल चाहिए था
غزل
۱ منٹ کا مطالعہکب دل کو جواب سے غرض تھی
ہونٹوں کو سوال چاہیے تھا
شوق ایک نفس تھا اور وفا کو
پاس مہ و سال چاہیے تھا
اک چہرۂ سادہ تھا جو ہم کو
بے مثل و مثال چاہیے تھا
Ik chehra-e-saada tha jo hum ko
Be-misl-o-misaal chahiye tha
इक चेहरा-ए-सादा था जो हम को
बे-मिस्ल-ओ-मिसाल चाहिए था
اک کرب میں ذات و زندگی ہیں
ممکن کو محال چاہیے تھا
Ik karb mein zaat-o-zindagi hain
Mumkin ko muhaal chahiye tha
میں کیا ہوں بس اک ملال ماضی
اس شخص کو حال چاہیے تھا
Main kya hoon bas ik malaal-e-maazi
Us shakhs ko haal chahiye tha
ہم تم جو بچھڑ گئے ہیں ہم کو
کچھ دن تو ملال چاہیے تھا
Hum tum jo bichhad gaye hain hum ko
Kuch din to malaal chahiye tha
وہ جسم جمال تھا سراپا
اور مجھ کو جمال چاہیے تھا
وہ شوخ رمیدہ مجھ کو اپنی
بانہوں میں نڈھال چاہیے تھا
Woh shokh rameeda mujh ko apni
Baahon mein nidhaal chahiye tha

جون ایلیا بیسویں صدی کے ان ممتاز ترین اور منفرد جدید شعرا میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی باغیانہ طبیعت، انوکھے اسلوب اور تلخ نوائی کے سبب عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔