Aakhiri Baar Aah Kar Li Hai
آخری بار آہ کر لی ہے
आख़िरी बार आह कर ली है
غزل
۱ منٹ کا مطالعہآخری بار آہ کر لی ہے
میں نے خود سے نباہ کر لی ہے
Aakhiri baar aah kar li hai
Main ne khud se nibaah kar li hai
اپنے سر اک بلا تو لینی تھی
میں نے وہ زلف اپنے سر لی ہے
Apne sar ik balaa to leni thi
Main ne woh zulf apne sar li hai
دن بھلا کس طرح گزارو گے
وصل کی شب بھی اب گزر لی ہے
Din bhala kis tarah guzaaro ge
Vasl ki shab bhi ab guzar li hai
جاں نثاروں پہ وار کیا کرنا
میں نے بس ہاتھ میں سپر لی ہے
Jaan-nisaaron pe vaar kya karna
Main ne bas haath mein sipar li hai
जाँ-निसारों पे वार क्या करना
मैंने बस हाथ में सिपर ली है
جو بھی مانگو ادھار دوں گا میں
اس گلی میں دکان کر لی ہے
Jo bhi maango udhaar doon ga main
Us gali mein dukaan kar li hai
जो भी मांगो उधार दूँगा मैं
उस गली में दुकान कर ली है
میرا کشکول کب سے خالی تھا
میں نے اس میں شراب بھر لی ہے
Mera kashkol kab se khaali tha
Main ne us mein sharaab bhar li hai

جون ایلیا بیسویں صدی کے ان ممتاز ترین اور منفرد جدید شعرا میں شمار ہوتے ہیں جو اپنی باغیانہ طبیعت، انوکھے اسلوب اور تلخ نوائی کے سبب عوام اور خواص دونوں میں یکساں مقبول ہوئے۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔