Hai Ghazal Mir Yeh Shifai Ki
ہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی
है ग़ज़ल मीरؔ यह शफ़ाईؔ की
غزل
۱ منٹ کا مطالعہہے غزل میرؔ یہ شفائیؔ کی
ہم نے بھی طبع آزمائی کی
Hai ghazal Mir yeh Shifai ki
Hum ne bhi tab-e-aazmai ki
है ग़ज़ल मीरؔ यह शफ़ाईؔ की
हम ने भी तब्अ-आज़माई की
اس کے ایفائے عہد تک نہ جیے
عمر نے ہم سے بے وفائی کی
وصل کے دن کی آرزو ہی رہی
شب نہ آخر ہوئی جدائی کی
اسی تقریب اس گلی میں رہے
منتیں ہیں شکستہ پائی کی
Isi taqreeb us gali mein rahe
Minnatein hain shikasta paai ki
इसी तक़रीब उस गली में रहे
मिन्नतें हैं शिकस्ता-पाई की
دل میں اس شوخ کے نہ کی تاثیر
آہ نے آہ نارسائی کی

میر تقی میر1723–1810
کلاسیکی
میر تقی میر اردو کے عظیم ترین کلاسیکی شاعر ہیں جنہیں 'خدائے سخن' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے گہرے دکھوں اور سوز و گداز کو نہای
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔