Hum Ne Sab Sher Mein Sanware The
ہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
हम ने सब शेर में संवारे थे
غزل
۱ منٹ کا مطالعہہم نے سب شعر میں سنوارے تھے
ہم سے جتنے سخن تمہارے تھے
Hum ne sab sher mein sanware the
Hum se jitne sukhan tumhare the
رنگ و خوشبو کے حسن و خوبی کے
تم سے تھے جتنے استعارے تھے
Rang-o-khushbu ke husn-o-khubi ke
Tum se the jitne ista'are the
रंग-ओ-ख़ुशबू के हुस्न-ओ-ख़ूबी के
तुम से थे जितने इस्तिआरे थे
تیرے قول و قرار سے پہلے
اپنے کچھ اور بھی سہارے تھے
Tere qaul-o-qaraar se pehle
Apne kuch aur bhi sahare the
तेरे क़ौल-ओ-क़रार से पहले
अपने कुछ और भी सहारे थे
جب وہ لعل و گہر حساب کیے
جو ترے غم نے دل پہ وارے تھے
Jab wo lal-o-gohar hisaab kiye
Jo tere gham ne dil pe ware the
जब वो लअल-ओ-गौहर हिसाब किए
जो तेरे ग़म ने दिल पे वारे थे

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔