Jab Bhi Us Shakhs Ko Dekha Jaaye
جب بھی اس شخص کو دیکھا جائے
जब भी उस शख़्स को देखा जाये
غزل
۱ منٹ کا مطالعہجب بھی اس شخص کو دیکھا جائے
کچھ کہا جائے نہ سوچا جائے
Jab bhi us shakhs ko dekha jaaye
Kuch kaha jaaye na socha jaaye
जब भी उस शख़्स को देखा जाये
कुछ कहा जाये न सोचा जाये
دیدۂ کور ہے قریہ قریہ
آئنہ کس کو دکھایا جائے
Deeda-e-kor hai qarya qarya
Aaina kis ko dikhaya jaaye
दीद-ए-कोर है क़र्या क़र्या
आईना किस को दिखाया जाये
دامن عہد وفا کیا تھا میں
دل ہی ہاتھوں سے جو نکلا جائے
Daaman-e-ahd-e-wafa kya thaamun
Dil hi haathon se jo nikla jaaye
दामन-ए-अहद-ए-वफ़ा क्या थामूँ
दिल ही हाथों से जो निकला जाये
درد مندوں سے تغافل کب تک
اس کو احساس دلایا جائے

امجد اسلام امجد اردو کے وہ نامور اور ہر دلعزیز شاعر اور ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے اپنی پُر اثر شاعری اور ٹیلی ویژن کے لازوال ڈراموں کے ذریعے برصغیر کے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔