Wafa-e-Wada Nahin Wada-e-Digar Bhi Nahin
وفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں
वफ़ा-ए-वादा नहीं वादा-ए-दिगर भी नहीं
غزل
۱ منٹ کا مطالعہوفائے وعدہ نہیں وعدۂ دگر بھی نہیں
وہ مجھ سے روٹھے تو تھے لیکن اس قدر بھی نہیں
Wafa-e-wada nahin wada-e-digar bhi nahin
Woh mujh se roothe toh thay lekin is qadar bhi nahin
वफ़ा-ए-वादा नहीं वादा-ए-दिगर भी नहीं
वो मुझसे रूठे तो थे लेकिन इस क़दर भी नहीं
برس رہی ہے حریم ہوس میں دولت حسن
گدائے عشق کے کاسے میں اک نظر بھی نہیں
Baras rahi hai harim-e-hawas mein daulat-e-husn
Gada-e-ishq ke kaase mein ek nazar bhi nahin
बरस रही है हरीम-ए-हवस में दौलत-ए-हुस्न
गदा-ए-इश्क़ के कासे में एक नज़र भी नहीं
نہ جانے کس لیے امیدوار بیٹھا ہوں
اک ایسی راہ پہ جو تیری رہ گزر بھی نہیں
Na jaane kis liye ummid-war baitha hoon
Ek aisi raah pe jo teri rah-guzar bhi nahin
ना जाने किस लिए उम्मीदवार बैठा हूँ
एक ऐसी राह पे जो तेरी राहगुज़र भी नहीं

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔