Sab Qatl Ho Ke Tere Muqabil Se Aaye Hain
سب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
सब क़त्ल हो के तेरे मुक़ाबिल से आए हैं
غزل
۱ منٹ کا مطالعہسب قتل ہو کے تیرے مقابل سے آئے ہیں
ہم لوگ سرخ رو ہیں کہ منزل سے آئے ہیں
Sab qatl ho ke tere muqabil se aaye hain
Ham log surkh-ru hain ke manzil se aaye hain
सब क़त्ल हो के तेरे मुक़ाबिल से आए हैं
हम लोग सुर्ख़-रू हैं कि मंज़िल से आए हैं
شمع نظر خیال کے انجم جگر کے داغ
جتنے چراغ ہیں تری محفل سے آئے ہیں
Shama-e-nazar khayal ke anjum jigar ke daagh
Jitne chiraagh hain teri mehfil se aaye hain
शम्अ-ए-नज़र ख़याल के अंजुम जिगर के दाग़
जितने चराग़ हैं तेरी महफ़िल से आए हैं
اٹھ کر تو آ گئے ہیں تری بزم سے مگر
کچھ دل ہی جانتا ہے کہ کس دل سے آئے ہیں
Uth kar to aa gaye hain teri bazm se magar
Kuch dil hi jaanta hai ke kis dil se aaye hain
उठ कर तो आ गए हैं तेरी बज़्म से मगर
कुछ दिल ही जानता है कि किस दिल से आए हैं

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔