Kuch Din Se Intezaar-e-Sawaal-e-Deegar Mein Hai
کچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہے
कुछ दिन से इंतज़ार-ए-सवाल-ए-दीगर में है
غزل
۱ منٹ کا مطالعہکچھ دن سے انتظار سوال دگر میں ہے
وہ مضمحل حیا جو کسی کی نظر میں ہے
Kuch din se intezaar-e-sawaal-e-deegar mein hai
Woh muzmahil haya jo kisi ki nazar mein hai
कुछ दिन से इंतज़ार-ए-सवाल-ए-दीगर में है
वो मज़महिल हया जो किसी की नज़र में है
سیکھی یہیں مرے دل کافر نے بندگی
رب کریم ہے تو تری رہ گزر میں ہے
Seekhi yaheen mere dil-e-kaafir ne bandegi
Rab-e-kareem hai tu teri rahguzar mein hai
सीखी यहीं मेरे दिल-ए-काफ़िर ने बंदगी
रब-ए-करीम है तू तेरी रहगुज़र में है

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔