Aarzoo’en Hazaar Rakhte Hain
آرزوئیں ہزار رکھتے ہیں
आरज़ूएं हज़ार रखते हैं
غزل
۱ منٹ کا مطالعہآرزوئیں ہزار رکھتے ہیں
تو بھی ہم دل کو مار رکھتے ہیں
Aarzoo'en hazaar rakhte hain
Tu bhi hum dil ko maar rakhte hain
برق کم حوصلہ ہے ہم بھی تو
دلک بے قرار رکھتے ہیں
غیر ہی مورد عنایت ہے
ہم بھی تو تم سے پیار رکھتے ہیں
Gair hi moreed-e-inayat hai
Hum bhi toh tum se pyaar rakhte hain
ग़ैर ही मोरीद-ए-इनायत है
हम भी तो तुम से प्यार रखते हैं
نہ نگہ نے پیام نے وعدہ
نام کو ہم بھی یار رکھتے ہیں
ہم سے خوش زمزمہ کہاں یوں تو
لب و لہجہ ہزار رکھتے ہیں
Hum se khush-zamzama kahan yun toh
Lab-o-lehja hazaar rakhte hain
हम से ख़ुश-ज़मज़मा कहाँ यूं तो
लब-ओ-लहजा हज़ार रखते हैं

میر تقی میر1723–1810
کلاسیکی
میر تقی میر اردو کے عظیم ترین کلاسیکی شاعر ہیں جنہیں 'خدائے سخن' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے گہرے دکھوں اور سوز و گداز کو نہای
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔