Saaye Dhalne Charaagh Jalne Lage
سائے ڈھلنے چراغ جلنے لگے
साये ढलने चराग़ जलने लगे
غزل
۱ منٹ کا مطالعہسائے ڈھلنے چراغ جلنے لگے
لوگ اپنے گھروں کو چلنے لگے
Saaye dhalne charaagh jalne lage
Log apne gharon ko chalne lage
साये ढलने चराग़ जलने लगे
लोग अपने घरों को चलने लगे
اتنی پر پیچ ہے بھنور کی گرہ
جیسے نفرت دلوں میں پلنے لگے
Itni pur-pech hai bhanwar ki girah
Jaise nafrat dilon mein palne lage
دور ہونے لگی جرس کی صدا
کارواں راستے بدلنے لگے
اس کے لہجے میں برف تھی لیکن
چھو کے دیکھا تو ہاتھ جلنے لگے
Us ke lehje mein barf thi lekin
Chhoo ke dekha to haath jalne lage
उस के लहजे में बर्फ़ थी लेकिन
छू के देखा तो हाथ जलने लगे
اس کے بند قبا کے جادو سے
سانپ سے انگلیوں میں چلنے لگے
Us ke band-e-qaba ke jaadu se
Saanp se ungliyon mein chalne lage
उस के बंद-ए-क़बा के जादू से
साँप से उँगलियों में चलने लगे

امجد اسلام امجد اردو کے وہ نامور اور ہر دلعزیز شاعر اور ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے اپنی پُر اثر شاعری اور ٹیلی ویژن کے لازوال ڈراموں کے ذریعے برصغیر کے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔