Kab Se Hum Log Is Bhanwar Mein Hain
کب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں
कब से हम लोग इस भँवर में हैं
غزل
۱ منٹ کا مطالعہکب سے ہم لوگ اس بھنور میں ہیں
اپنے گھر میں ہیں یا سفر میں ہیں
Kab se hum log is bhanwar mein hain
Apne ghar mein hain ya safar mein hain
یوں تو اڑنے کو آسماں ہیں بہت
ہم ہی آشوب بال و پر میں ہیں
Yun to udne ko aasmaan hain bahut
Hum hi aashob-e-baal-o-par mein hain
यूँ तो उड़ने को आसमाँ हैं बहुत
हम ही आशोब-ए-बाल-ओ-पर में हैं
زندگی کے تمام تر رستے
موت ہی کے عظیم ڈر میں ہیں
اتنے خدشے نہیں ہیں رستوں میں
جس قدر خواہش سفر میں ہیں
Itne khadshe nahin hain raston mein
Jis qadar khwahish-e-safar mein hain
इतने ख़दशे नहीं हैं रस्तों में
जिस क़दर ख़्वाहिश-ए-सफ़र में हैं
سیپ اور جوہری کے سب رشتے
شعر اور شعر کے ہنر میں ہیں
Seep aur jauhari ke sab rishte
Sher aur sher ke hunar mein hain

امجد اسلام امجد اردو کے وہ نامور اور ہر دلعزیز شاعر اور ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے اپنی پُر اثر شاعری اور ٹیلی ویژن کے لازوال ڈراموں کے ذریعے برصغیر کے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔