Ishq Mein Kuch Nahi Dawa Se Nafa’
عشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع
इश्क़ में कुछ नहीं दवा से नफ़ा
غزل
۱ منٹ کا مطالعہعشق میں کچھ نہیں دوا سے نفع
کڑھیے کب تک نہ ہو بلا سے نفع
Ishq mein kuch nahi dawa se nafa'
Karhiye kab tak na ho bala se nafa'
کب تلک ان بتوں سے چشم رہے
ہو رہے گا بس اب خدا سے نفع
Kab talak in buton se chashm rahe
Ho rahega bas ab khuda se nafa'
میں تو غیر از ضرر نہ دیکھا کچھ
ڈھونڈھو تم یار و آشنا سے نفع
Main to ghair az zarar na dekha kuch
Dhoondho tum yaar o aashna se nafa'
मैं तो ग़ैर अज़ ज़रर न देखा कुछ
ढूँढो तुम यार ओ आश्ना से नफ़ा

میر تقی میر1723–1810
کلاسیکی
میر تقی میر اردو کے عظیم ترین کلاسیکی شاعر ہیں جنہیں 'خدائے سخن' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے گہرے دکھوں اور سوز و گداز کو نہای
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔