Paspa Hui Sipah To Parcham Bhi Hum Hi The
پسپا ہوئی سپاہ تو پرچم بھی ہم ہی تھے
पस्पा हुई सिपाह तो परचम भी हम ही थे
غزل
۱ منٹ کا مطالعہپسپا ہوئی سپاہ تو پرچم بھی ہم ہی تھے
حیرت کی بات یہ ہے کہ برہم بھی ہم ہی تھے
Paspa hui sipah to parcham bhi hum hi the
Hairat ki baat yeh hai ke barham bhi hum hi the
पस्पा हुई सिपाह तो परचम भी हम ही थे
हैरत की बात ये है कि बरहम भी हम ही थे
گرنے لگے جو سوکھ کے پتے تو یہ کھلا
گلشن تھے ہم جو آپ تو موسم بھی ہم ہی تھے
Girne lage jo sookh ke patte to yeh khula
Gulshan the hum jo aap to mausam bhi hum hi the
गिरने लगे जो सूख के पत्ते तो ये खुला
गुलशन थे हम जो आप तो मौसम भी हम ही थे
ہم ہی تھے تیرے وصل سے محروم عمر بھر
لیکن تیرے جمال کے محرم بھی ہم ہی تھے
Hum hi the tere wasl se mahroom umr bhar
Lekin tere jamaal ke mahram bhi hum hi the
हम ही थे तेरे वस्ल से महरूम उम्र भर
लेकिन तेरे जमाल के महरम भी हम ही थे

امجد اسلام امجد اردو کے وہ نامور اور ہر دلعزیز شاعر اور ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے اپنی پُر اثر شاعری اور ٹیلی ویژن کے لازوال ڈراموں کے ذریعے برصغیر کے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔