Band Tha Darwaza Bhi Aur Ghar Mein Bhi Tanha Tha Main
بند تھا دروازہ بھی اور گھر میں بھی تنہا تھا میں
बंद था दरवाज़ा भी और घर में भी तन्हा था मैं
غزل
۱ منٹ کا مطالعہبند تھا دروازہ بھی اور اگر میں بھی تنہا تھا میں
وہم تھا جانے مرا یا آپ ہی بولا تھا میں
Band tha darwaza bhi aur ghar mein bhi tanha tha main
Vahm tha jaane mira ya aap hi bola tha main
बंद था दरवाज़ा भी और घर में भी तन्हा था मैं
वहम था जाने मिरा या आप ही बोला था मैं
یاد ہے اب تک مجھے وہ بد حواسی کا سماں
تیرے پہلے خط کو گھنٹوں چومتا رہتا تھا میں
Yaad hai ab tak mujhe woh bad-hawasi ka samaan
Tere pehle khat ko ghanton choomta rehta tha main
याद है अब तक मुझे वो बद-हवासी का समाँ
तेरे पहले ख़त को घंटों चूमता रहता था मैं
راستوں پر تیرگی کی یہ فراوانی نہ تھی
اس سے پہلے بھی تمہارے شہر میں آیا تھا میں
Raaston par teergi ki yeh farawani na thi
Is se pehle bhi tumhare shehar mein aaya tha main
रास्तों पर तीरगी की यह फ़रावानी न थी
इस से पहले भी तुम्हारे शहर में आया था मैं

امجد اسلام امجد اردو کے وہ نامور اور ہر دلعزیز شاعر اور ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے اپنی پُر اثر شاعری اور ٹیلی ویژن کے لازوال ڈراموں کے ذریعے برصغیر کے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔