Rang Khushboo Mein Agar Hal Ho Jaaye
رنگ خوش بو میں اگر حل ہو جائے
रंग ख़ुशबू में अगर हल हो जाए
غزل
۱ منٹ کا مطالعہرنگ خوش بو میں اگر حل ہو جائے
وصل کا خواب مکمل ہو جائے
Rang khushboo mein agar hal ho jaaye
Wasl ka khwaab mukammal ho jaaye
چاند کا چوما ہوا سرخ گلاب
تیتری دیکھے تو پاگل ہو جائے
Chaand ka chooma hua surkh gulaab
Titli dekhe to paagal ho jaaye
میں اندھیروں کو اجالوں ایسے
تیرگی آنکھ کا کاجل ہو جائے
Main andheron ko ujaaloon aise
Teergi aankh ka kaajal ho jaaye
دوش پر بارشیں لے کے گھومیں
میں ہوا اور وہ بادل ہو جائے
Dosh par baarishein le ke ghoomein
Main hawa aur woh baadal ho jaaye
نرم سبزے پہ ذرا جھک کے چلے
شبنمی رات کا آنچل ہو جائے
Narm sabze pe zara jhuk ke chale
Shabnami raat ka aanchal ho jaaye

پروین شاکر اردو کی ایک ایسی ممتاز اور ندرت آفریں شاعرہ تھیں جنہوں نے نسوانی احساسات، محبت کی شدت اور سماجی جبر کے خلاف بے باک آواز اٹھا کر نسوانی غزل کو ایک نیا اور جدید جہت عطا کی۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔