Chaak-e-Peerahani-e-Gul Ko Saba Jaanti Hai
چاک پیراہنیٔ گل کو صبا جانتی ہے
चाक पीराहनी-ए-गुुल को सबा जानती है
غزل
۱ منٹ کا مطالعہچاک پیراہنیٔ گل کو صبا جانتی ہے
مستئ شوق کہاں بند قبا جانتی ہے
chaak peerahani-e-gul ko saba jaanti hai
mast-e-shauq kahaan band-e-qaba jaanti hai
चाक पीराहनी-ए-गुुल को सबा जानती है
मस्त-ए-शौक़ कहाँ बंद-ए-क़बा जानती है
ہم تو بدنام محبت تھے سو رسوا ٹھہرے
ناصحوں کو بھی مگر خلق خدا جانتی ہے
hum to badnaam-e-mohabbat the so ruswa thehre
naasihon ko bhi magar khalq-e-khuda jaanti hai
हम तो बदनाम-ए-मोहब्बत थे सो रुस्वा ठहरे
नासिहों को भी मगर ख़ल्क़-ए-ख़ुदा जानती है

احمد فراز جدید اردو غزل کے وہ مقبول ترین رومانوی شاعر ہیں جنہوں نے کلاسیکی روایت اور جدید حسیت کو یکجا کیا، اور آمریت کے خلاف بے خوف مزاحمت کی۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔