Jag Mein Koi Na Tuk Hansa Hoga
جگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا
जग में कोई न टुक हँसा होगा
غزل
۱ منٹ کا مطالعہجگ میں کوئی نہ ٹک ہنسا ہوگا
کہ نہ ہنستے میں رو دیا ہوگا
Jag mein koi na tuk hansa hoga
Ke na hanste mein ro diya hoga
ان نے قصداً بھی میرے نالے کو
نہ سنا ہوگا گر سنا ہوگا
دیکھیے اب کے غم سے جی میرا
نہ بچے گا بچے گا کیا ہوگا
Dekhiye ab ke gham se jee mera
Na bachega bachega kya hoga
देखिए अब के ग़म से जी मेरा
न बचेगा बचेगा क्या होगा
دل زمانے کے ہاتھ سے سالم
کوئی ہوگا جو رہ گیا ہوگا
حال مجھ غم زدہ کا جس تس نے
جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا
دل کے پھر زخم تازہ ہوتے ہیں
کہیں غنچہ کوئی کھلا ہوگا
Dil ke phir zakhm taaza hote hain
Kahin ghuncha koi khila hoga
یک بہ یک نام لے اٹھا میرا
جی میں کیا اس کے آ گیا ہوگا
Yak-ba-yak naam le utha mera
Jee mein kya us ke aa gaya hoga
यक-ब-यक नाम ले उठा मेरा
जी में क्या उस के आ गया होगा
میرے نالوں پہ کوئی دنیا میں
بن کیے آہ کم رہا ہوگا

کلاسیکی
خواجہ میر درد اٹھارہویں صدی کے ایک ممتاز صوفی شاعر اور موسیقی کے ماہر تھے، جن کا کلام تصوف، الٰہی عشق اور انسانی روح کی گہرائیوں کا عکاس ہے۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔