Woh Aaghaz-e-Mohabbat Ka Zamana
وہ آغاز محبت کا زمانہ
वो आग़ाज़-ए-मोहब्बत का ज़माना
غزل
۱ منٹ کا مطالعہوہ آغاز محبت کا زمانہ
ذرا سی بات بنتی تھی فسانہ
Woh aaghaz-e-mohabbat ka zamana
Zara si baat banti thi fasaana
قفس کو کیوں سمجھ لوں آشیانہ
ابھی تو کروٹیں لے گا زمانہ
Qafas ko kyun samajh loon aashiyana
Abhi to karvaten lega zamana
یہ کہہ کر صبر کرتے ہیں ستم پر
ہمارا بھی کبھی ہوگا زمانہ
Yeh kah kar sabr karte hain sitam par
Hamara bhi kabhi hoga zamana
قفس سے بھی نکالا جا رہا ہوں
کہاں لے جائے دیکھو آب و دانہ
Qafas se bhi nikala ja raha hoon
Kahan le jaaye dekho aab-o-dana
غرور اتنا نہ کر تیر ستم پر
کہ اکثر چوک جاتا ہے نشانہ
Gharoor itna na kar teer-e-sitam par
Ke aksar chook jata hai nishana
ग़रूर इतना न कर तीर-ए-सितम पर
के अक्सर चूक जाता है निशाना

استاد قمر جلالوی کلاسیکی غزل کے وہ عظیم اور قادر الکلام شاعر ہیں جنہوں نے سائیکل مکینک کی حیثیت سے ملنے والے لقب 'استاد' کو اپنی بے مثال شاعری سے ایک ادبی پہچان بنا دیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔