Rukne Ka Samay Guzar Gaya Hai
رکنے کا سمے گزر گیا ہے
रुकने का समय गुज़र गया है
غزل
۱ منٹ کا مطالعہرکنے کا سمے گزر گیا ہے
جانا ترا اب ٹھہر گیا ہے
رخصت کی گھڑی کھڑی ہے سر پر
دل کوئی دو نیم کر گیا ہے
Rukhsat ki ghadi khadi hai sar par
Dil koi do-neem kar gaya hai
ماتم کی فضا ہے شہر دل میں
مجھ میں کوئی شخص مر گیا ہے
Maatam ki fiza hai shehr-e-dil mein
Mujh mein koi shakhs mar gaya hai

پروین شاکر1952–1994
پروین شاکر اردو کی ایک ایسی ممتاز اور ندرت آفریں شاعرہ تھیں جنہوں نے نسوانی احساسات، محبت کی شدت اور سماجی جبر کے خلاف بے باک آواز اٹھا کر نسوانی غزل کو ایک نیا اور جدید جہت عطا کی۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔