Kisi Surat Sahar Nahin Hoti
کسی صورت سحر نہیں ہوتی
किसी सूरत सहर नहीं होती
غزل
۱ منٹ کا مطالعہکسی صورت سحر نہیں ہوتی
رات ادھر سے ادھر نہیں ہوتی
Kisi surat sahar nahin hoti
Raat idhar se udhar nahin hoti
کسی صورت سحر نہیں ہوتی
रात इधर से उधर नहीं होती
خوف صیاد سے نہ برق کا ڈر
بات یہ اپنے گھر نہیں ہوتی
ایک وہ ہیں کہ روز آتے ہیں
ایک ہم ہیں خبر نہیں ہوتی
Ek wo hain ki roz aate hain
Ek hum hain khabar nahin hoti
एक वो हैं कि रोज़ आते हैं
एक हम हैं ख़बर नहीं होती
اب میں سمجھا ہوں کاٹ کر شب غم
زندگی مختصر نہیں ہوتی
Ab main samjha hoon kaat kar shab-e-gham
Zindagi mukhtasar nahin hoti
کتنی پابند وضع ہے شب غم
کبھی غیروں کے گھر نہیں ہوتی
Kitni paaband-e-waza hai shab-e-gham
Kabhi ghairon ke ghar nahin hoti
کتنی سیدھی ہے راہ ملک عدم
حاجت راہ بر نہیں ہوتی
Kitni seedhi hai raah-e-mulk-e-adam
Haaat-e-raahbar nahin hoti
कितनी सीधी है राह-ए-मुल्क-ए-अदम
हाजत-ए-राहबर नहीं होती

استاد قمر جلالوی کلاسیکی غزل کے وہ عظیم اور قادر الکلام شاعر ہیں جنہوں نے سائیکل مکینک کی حیثیت سے ملنے والے لقب 'استاد' کو اپنی بے مثال شاعری سے ایک ادبی پہچان بنا دیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔