غزل3
اشعار9
عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
— میر تقی میردیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
— میر تقی میریوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
— میر تقی میرہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے
— میر تقی میرنازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
— میر تقی میر