Darbar Mein Ab Satwat-e-Shahi Ki Alamat
دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت
दरबार में अब सतवत-ए-शाही की अलामत
غزل
۱ منٹ کا مطالعہدربار میں اب سطوت شاہی کی علامت
درباں کا عصا ہے کہ مصنف کا قلم ہے
Darbar mein ab satwat-e-shahi ki alamat
Darbaan ka asa hai ke musannif ka qalam hai
दरबार में अब सतवत-ए-शाही की अलामत
दरबां का असा है कि मुसन्निफ़ का क़लम है
آوارہ ہے پھر کوہ ندا پر جو بشارت
تمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے
Aawara hai phir koh-e-nida par jo bisharat
Tamheed-e-musarrat hai ke tool-e-shab-e-gham hai
आवारा है फिर कोह-ए-निदा पर जो बशारत
तमीद-ए-मुसर्रत है कि तूल-ए-शब-ए-ग़म है
جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاں
یہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علم ہے
Jis dhaji ko galiyon mein liye phirte hain tiflan
Yeh mera gareban hai ke lashkar ka alam hai
जिस धजी को गलियों में लिए फिरते हैं तफ़लां
यह मेरा गरेबां है कि लश्कर का अलम है

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔