Jaise Main Dekhta Hoon Log Nahin Dekhte Hain
جیسے میں دیکھتا ہوں لوگ نہیں دیکھتے ہیں
जैसे मैं देखता हूँ लोग नहीं देखते हैं
غزل
۱ منٹ کا مطالعہجیسے میں دیکھتا ہوں لوگ نہیں دیکھتے ہیں
ظلم ہوتا ہے کہیں اور کہیں دیکھتے ہیں
Jaise main dekhta hoon log nahin dekhte hain
Zulm hota hai kahin aur kahin dekhte hain
जैसे मैं देखता हूँ लोग नहीं देखते हैं
ज़ुल्म होता है कहीं और कहीं देखते हैं
تیر آیا تھا جدھر سے یہ مرے شہر کے لوگ
کتنے سادا ہیں کہ مرہم بھی وہیں دیکھتے ہیں
Teer aaya tha jidhar se yeh mere sheher ke log
Kitne saada hain ke marham bhi wahin dekhte hain
तीर आया था जिधर से यह मिरे शहर के लोग
कितने सादा हैं कि मरहम भी वहीं देखते हैं
کیا ہوا وقت کا دعویٰ کہ ہر اک اگلے برس
ہم اسے اور حسیں اور حسیں دیکھتے ہیں
Kya hua waqt ka da'waa ke har ik agle baras
Hum use aur haseen aur haseen dekhte hain
क्या हुआ वक़्त का दावा कि हर इक अगले बरस
हम उसे और हसीं और हसीं देखते हैं

امجد اسلام امجد اردو کے وہ نامور اور ہر دلعزیز شاعر اور ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے اپنی پُر اثر شاعری اور ٹیلی ویژن کے لازوال ڈراموں کے ذریعے برصغیر کے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔