Subh Ki Aaj Jo Rangat Hai Woh Pehle To Na Thi
صبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی
सुबह की आज जो रंगत है वह पहले तो न थी
غزل
۱ منٹ کا مطالعہصبح کی آج جو رنگت ہے وہ پہلے تو نہ تھی
کیا خبر آج خراماں سر گلزار ہے کون
Subh ki aaj jo rangat hai woh pehle to na thi
Kya khabar aaj khiraman sar-e-gulzar hai kaun
सुबह की आज जो रंगत है वह पहले तो न थी
क्या ख़बर आज ख़िरामं सर-ए-गुलज़ार है कौन
شام گلنار ہوئی جاتی ہے دیکھو تو سہی
یہ جو نکلا ہے لیے مشعل رخسار ہے کون
Shaam-e-gulnaar hui jaati hai dekho to sahi
Yeh jo nikla hai liye mash'al-e-rukhsar hai kaun
शाम-ए-गुलनार हुई जाती है देखो तो सही
यह जो निकला है लिए मशअल-ए-रुख़्सार है कौन

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔