Teri Surat Jo Dil Nasheen Ki Hai
تیری صورت جو دل نشیں کی ہے
तेरी सूरत जो दिल-नशीं की है
غزل
۱ منٹ کا مطالعہتیری صورت جو دل نشیں کی ہے
آشنا شکل ہر حسیں کی ہے
Teri surat jo dil nasheen ki hai
Ashna shakl har haseen ki hai
حسن سے دل لگا کے ہستی کی
ہر گھڑی ہم نے آتشیں کی ہے
Husn se dil laga ke hasti ki
Har ghadi hum ne aatishin ki hai
صبح گل ہو کہ شام مے خانہ
مدح اس روئے نازنیں کی ہے
Subh-e-gul ho ke shaam-e-maikhana
Madah us rooye-nazneen ki hai
सुब्ह-ए-गुल हो कि शाम-ए-मयख़ाना
मदह उस रू-ए-नाज़नीं की है
شیخ سے بے ہراس ملتے ہیں
ہم نے توبہ ابھی نہیں کی ہے
ذکر دوزخ بیان حور و قصور
بات گویا یہیں کہیں کی ہے
Zikr-e-dozakh, bayaan-e-hoor-o-qasoor
Baat goya yahin kahin ki hai
ज़िक्र-ए-दोज़ख़, बयान-ए-हूर-ओ-क़ुसूर
बात गोया यहीं कहीं की है
اشک تو کچھ بھی رنگ لا نہ سکے
خوں سے تر آج آستیں کی ہے
Ashk to kuch bhi rang la na sake
Khoon se tar aaj aastin ki hai

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔