دیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے
یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے

— میر تقی میر

غزل دیکھیں →


تبصرے

تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…