Phir Hareef-e-Bahaar Ho Baithe
پھر حریفِ بہار ہو بیٹھے
फिर हरीफ़-ए-बहार हो बैठे
غزل
۱ منٹ کا مطالعہپھر حریف بہار ہو بیٹھے
جانے کس کس کو آج رو بیٹھے
Phir hareef-e-bahaar ho baithe
Jaane kis kis ko aaj ro baithe
फिर हरीफ़-ए-बहार हो बैठे
जाने किस किस को आज रो बैठे
تھی مگر اتنی رائیگاں بھی نہ تھی
آج کچھ زندگی سے کھو بیٹھے
Thi magar itni raaygaan bhi na thi
Aaj kuch zindagi se kho baithe
थी मगर इतनी रायगाँ भी न थी
आज कुछ ज़िंदगी से खो बैठे
تیرے در تک پہنچ کے لوٹ آئے
عشق کی آبرو ڈبو بیٹھے
ساری دنیا سے دور ہو جائے
جو ذرا تیرے پاس ہو بیٹھے
Saari dunya se door ho jaaye
Jo zara tere paas ho baithe
सारी दुनिया से दूर हो जाये
जो ज़रा तेरे पास हो बैठे

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔