Garchah Kab Dekhte Ho Par Dekho
گرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو
गरचह कब देखते हो पर देखो
غزل
۱ منٹ کا مطالعہگرچہ کب دیکھتے ہو پر دیکھو
آرزو ہے کہ تم ادھر دیکھو
Garchah kab dekhte ho par dekho
Aarzoo hai keh tum idhar dekho
عشق کیا کیا ہمیں دکھاتا ہے
آہ تم بھی تو اک نظر دیکھو
یوں عرق جلوہ گر ہے اس منہ پر
جس طرح اوس پھول پر دیکھو
Yoon araq jalwa-gar hai us munh par
Jis tarah os phool par dekho
ہر خراش جبیں جراحت ہے
ناخن شوق کا ہنر دیکھو
Har kharash-e-jabeen jarahat hai
Nakhun-e-shauq ka hunar dekho
تھی ہمیں آرزو لب خنداں
سو عوض اس کے چشم تر دیکھو
Thi hamen aarzoo lab-e-khandan
So awaz is ke chashm-e-tar dekho
رنگ رفتہ بھی دل کو کھینچے ہے
ایک شب اور یاں سحر دیکھو
Rang-e-raftah bhi dil ko khenche hai
Ek shab aur yaan sahar dekho
دل ہوا ہے طرف محبت کا
خون کے قطرے کا جگر دیکھو

کلاسیکی
میر تقی میر اردو کے عظیم ترین کلاسیکی شاعر ہیں جنہیں 'خدائے سخن' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے گہرے دکھوں اور سوز و گداز کو نہای
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔