Mujh Sa Betaab Howe Jab Koi
مجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی
मुझ सा बेताब होवे जब कोई
غزل
۱ منٹ کا مطالعہمجھ سا بیتاب ہووے جب کوئی
بے قراری کو جانے تب کوئی
ہاں خدا مغفرت کرے اس کو
صبر مرحوم تھا عجب کوئی
جان دے گو مسیح پر اس سے
بات کہتے ہیں تیرے لب کوئی
بعد میرے ہی ہو گیا سنسان
سونے پایا تھا ورنہ کب کوئی
اس کے کوچے میں حشر تھے مجھ تک
آہ و نالہ کرے نہ اب کوئی
Uss ke kooche mein hashr the mujh tak
Aah-o-naala kare na ab koi
ایک غم میں ہوں میں ہی عالم میں
یوں تو شاداں ہے اور سب کوئی
Ek gham mein hoon main hi aalam mein
Yun to shaadaan hai aur sab koi
نا سمجھ یوں خفا بھی ہوتا ہے
مجھ سے مخلص سے بے سبب کوئی
Na-samajh yun khafa bhi hota hai
Mujh se mukhlis se be-sabab koi

میر تقی میر1723–1810
کلاسیکی
میر تقی میر اردو کے عظیم ترین کلاسیکی شاعر ہیں جنہیں 'خدائے سخن' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے گہرے دکھوں اور سوز و گداز کو نہای
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔