Garmi-e-Shauq-e-Nazaara Ka Asar Tu Dekho
گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو
गरमी-ए-शौक़-ए-नज़ारा का असर तू देखो
غزل
۱ منٹ کا مطالعہگرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو
گل کھلے جاتے ہیں وہ سایۂ تر تو دیکھو
Garmi-e-shauq-e-nazaara ka asar tu dekho
Gul khile jaate hain woh saaya-e-tar tu dekho
गरमी-ए-शौक़-ए-नज़ारा का असर तू देखो
गुल खिले जाते हैं वो साया-ए-तर तू देखो
ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے
ناصحو پند گرو راہ گزر تو دیکھو
Aise naadaan bhi na thay jaan se guzarne waale
Naaseho pand-garo raah-guzar tu dekho
ऐसे नादां भी न थे जाँ से गुज़रने वाले
नासेहो पंद-गरो राह-गुज़र तू देखो
وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائے گی الفت مجھ سے
اک نظر تم مرا محبوب نظر تو دیکھو
Woh tu woh hai tumhein ho jaayegi ulfat mujh se
Ek nazar tum mera mehboob-e-nazar tu dekho
वो तू वो है तुम्हें हो जाएगी उल्फ़त मुझ से
एक नज़र तुम मेरा महबूब-ए-नज़र तू देखो
وہ جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں
دیکھنے والو کبھی ان کا جگر تو دیکھو
Woh jo ab chaak-e-garebaan bhi nahin karte hain
Dekhne waalo kabhi un ka jigar tu dekho
वो जो अब चाक-ए-गरेबाँ भी नहीं करते हैं
देखने वालो कभी उन का जिगर तू देखो

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔