Jins-e-Giraan Ko Tujh Se Jo Log Chahte Hain
جنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں
जिन्स-ए-गिराँ को तुझ से जो लोग चाहते हैं
غزل
۱ منٹ کا مطالعہجنس گراں کو تجھ سے جو لوگ چاہتے ہیں
وے روگ اپنے جی کو ناحق بساہتے ہیں
Jins-e-giraan ko tujh se jo log chahte hain
Ve rog apne jee ko na-haq basaahate hain
जिन्स-ए-गिराँ को तुझ से जो लोग चाहते हैं
वे रोग अपने जी को ना-हक़ बसाहते हैं
اس میکدے میں ہم بھی مدت سے ہیں ولیکن
خمیازہ کھینچتے ہیں ہر دم جماہتے ہیں
Us maikade mein hum bhi muddat se hain valeekin
Khamyaaza kheenchate hain har dam jamaahate hain
उस मैकदे में हम भी मुद्दत से हैं वलेकिन
ख़मयाज़ा खींचते हैं हर दम जमाहते हैं
ناموس دوستی سے گردن بندھی ہے اپنی
جیتے ہیں جب تلک ہم تب تک نباہتے ہیں
Naamoos-e-dosti se gardan bandhi hai apni
Jeete hain jab talak hum tab tak nibaahate hain
नामूस-ए-दोस्ती से गर्दन बंधी है अपनी
जीते हैं जब तलक हम तब तक निबाहते हैं

کلاسیکی
میر تقی میر اردو کے عظیم ترین کلاسیکی شاعر ہیں جنہیں 'خدائے سخن' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے گہرے دکھوں اور سوز و گداز کو نہای
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔