Zindagi Dard Bhi Dawa Bhi Thi
زندگی درد بھی دوا بھی تھی
ज़िंदगी दर्द भी दवा भी थी
غزل
۱ منٹ کا مطالعہزندگی درد بھی دوا بھی تھی
ہم سفر بھی گریز پا بھی تھی
کچھ تو تھے دوست بھی وفا دشمن
کچھ مری آنکھ میں حیا بھی تھی
Kuch to thay dost bhi wafa dushman
Kuch miri aankh mein hayaa bhi thi
دن کا اپنا بھی شور تھا لیکن
شب کی آواز بے صدا بھی تھی
Din ka apna bhi shor tha lekin
Shab ki aawaaz be-sadaa bhi thi
عشق نے ہم کو غیب دان کیا
یہی تحفہ یہی سزا بھی تھی
Ishq ne hum ko ghaib-daan kiya
Yehi tohfa yehi sazaa bhi thi
گرد باد وفا سے پہلے تک
سر پہ خیمہ بھی تھا ردا بھی تھی
Gard-baad-e-wafa se pehle tak
Sar pe khaima bhi tha ridaa bhi thi
ماں کی آنکھیں چراغ تھیں جس میں
میرے ہمراہ وہ دعا بھی تھی
Maan ki aankhen charaagh theen jis mein
Mere humraah woh dua bhi thi
माँ की आँखें चराग़ थीं जिस में
मेरे हमराह वो दुआ भी थी

امجد اسلام امجد اردو کے وہ نامور اور ہر دلعزیز شاعر اور ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے اپنی پُر اثر شاعری اور ٹیلی ویژن کے لازوال ڈراموں کے ذریعے برصغیر کے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔