Sehl Yun Raah-e-Zindagi Ki Hai
سہل یوں راہ زندگی کی ہے
सह्ल यूं राह-ए-ज़िंदगी की है
غزل
۱ منٹ کا مطالعہسہل یوں راہ زندگی کی ہے
ہر قدم ہم نے عاشقی کی ہے
Sehl yun raah-e-zindagi ki hai
Har qadam hum ne aashiqi ki hai
सह्ल यूं राह-ए-ज़िंदगी की है
हर क़दम हम ने आशिक़ी की है
ہم نے دل میں سجا لیے گلشن
جب بہاروں نے بے رخی کی ہے
Hum ne dil mein saja liye gulshan
Jab bahaaron ne be-rukhi ki hai
زہر سے دھو لیے ہیں ہونٹ اپنے
لطف ساقی نے جب کمی کی ہے
Zahr se dho liye hain honth apne
Lutf-e-saaqi ne jab kami ki hai
ज़हर से धो लिए हैं होंट अपने
लुत्फ़-ए-साक़ी ने जब कमी की है
تیرے کوچے میں بادشاہی کی
جب سے نکلے گداگری کی ہے
Tere kooche mein baadshahi ki
Jab se nikle gadaagari ki hai

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔