Chashm-e-Maigun Zara Idhar Kar De
چشم میگوں ذرا ادھر کر دے
चश्म-ए-मैगूं ज़रा इधर कर दे
غزل
۱ منٹ کا مطالعہچشم میگوں ذرا ادھر کر دے
دست قدرت کو بے اثر کر دے
Chashm-e-maigun zara idhar kar de
Dast-e-qudrat ko be-asar kar de
تیز ہے آج درد دل ساقی
تلخی مے کو تیز تر کر دے
Tez hai aaj dard-e-dil saqi
Talkhi-e-mai ko tez-tar kar de
جوش وحشت ہے تشنہ کام ابھی
چاک دامن کو تا جگر کر دے
Josh-e-wehshat hai tishna-kaam abhi
Chaak-e-daaman ko taa-jigar kar de
میری قسمت سے کھیلنے والے
مجھ کو قسمت سے بے خبر کر دے
Meri qismat se khelne wale
Mujh ko qismat se be-khabar kar de

فیض احمد فیض اردو کے وہ عہد ساز شاعر ہیں جنہوں نے زلف و رخسار کی رومانیت کو انقلابی فکر کے ساتھ ملا کر عالمگیر مقبولیت حاصل کی، اور اپنے نظریات کے سبب قید و بند کا سامنا کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔