Us Ne Aahista Se Jab Pukara Mujhe
اس نے آہستہ سے جب پکارا مجھے
उसने आहिस्ता से जब पुकारा मुझे
غزل
۱ منٹ کا مطالعہاس نے آہستہ سے جب پکارا مجھے
جھک کے تکنے لگا ہر ستارا مجھے
Us ne aahista se jab pukaara mujhe
Jhuk ke takne laga har sitaara mujhe
उसने आहिस्ता से जब पुकारा मुझे
झुक के तकने लगा हर सितारा मुझे
تیرا غم اس فشار شب و روز میں
ہونے دیتا نہیں بے سہارا مجھے
Tera gham is fishaar-e-shab-o-roz mein
Hone deta nahi be-sahaara mujhe
तेरा ग़म इस फ़िशार-ए-शब-ओ-रोज़ में
होने देता नहीं बे-सहारा मुझे
ہر ستارے کی بجھتی ہوئی روشنی
میرے ہونے کا ہے استعارا مجھے
Har sitaare ki bujhti hui raushni
Mere hone ka hai istiaara mujhe
اے خدا کوئی ایسا بھی ہے معجزہ
جو کہ مجھ پر کرے آشکارا مجھے
Ae Khuda koi aisa bhi hai mojiza
Jo ke mujh par kare aashkaara mujhe
کوئی سورج نہیں کوئی تارا نہیں
تو نے کس جھٹپٹے میں اتارا مجھے
Koi sooraj nahi koi taara nahi
Tu ne kis jhutpute mein utaara mujhe
कोई सूरज नहीं कोई तारा नहीं
तूने किस झुटपुटे में उतारा मुझे

امجد اسلام امجد اردو کے وہ نامور اور ہر دلعزیز شاعر اور ڈرامہ نگار تھے جنہوں نے اپنی پُر اثر شاعری اور ٹیلی ویژن کے لازوال ڈراموں کے ذریعے برصغیر کے ناظرین کے دلوں پر راج کیا۔
مکمل پروفائل دیکھیں →


تبصرے
تبصرے لوڈ ہو رہے ہیں…
ابھی کوئی تبصرہ نہیں — سب سے پہلے اپنی رائے دیں۔