0پسندیدہ
ترتیب کی بنیاد
عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے کب یہ تجھ ناتواں سے اٹھتا ہے
— میر تقی میردیکھ تو دل کہ جاں سے اٹھتا ہے یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے
— میر تقی میریوں اٹھے آہ اس گلی سے ہم جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے
— میر تقی میرہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے
— میر تقی میرنازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
— میر تقی میرمیرؔ ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے
— میر تقی میرالٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
— میر تقی میرناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
— میر تقی میریاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہےرات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا
— میر تقی میر