0پسندیدہ
ترتیب کی بنیاد
تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے
— میر تقی میرہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے
— میر تقی میرنازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
— میر تقی میرمیرؔ ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے
— میر تقی میر