0پسندیدہ

ہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہےرات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

— میر تقی میر
غزل دیکھیں