میر تقی میر اردو کے عظیم ترین کلاسیکی شاعر ہیں جنہیں 'خدائے سخن' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے گہرے دکھوں اور سوز و گداز کو نہایت سادہ اور روزمرہ کی زبان میں ڈھال کر غزل کو لازوال بنایا
ہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے
نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
میرؔ ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا
ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا
مزید دیکھیں