Mir Taqi Mir — Poet

میر تقی میر

1723 — 1810کلاسیکی

میر تقی میر اردو کے عظیم ترین کلاسیکی شاعر ہیں جنہیں 'خدائے سخن' کہا جاتا ہے۔ انہوں نے زندگی کے گہرے دکھوں اور سوز و گداز کو نہایت سادہ اور روزمرہ کی زبان میں ڈھال کر غزل کو لازوال بنایا

میر تقی میر کے مشہور اشعار

0پسندیدہ

الٹی ہو گئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیادیکھا اس بیماری دل نے آخر کام تمام کیا

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کیچاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ہم کو عبث بدنام کیا

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہےرات کو رو رو صبح کیا یا دن کو جوں توں شام کیا

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

ہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

ہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

تشنۂ خوں ہے اپنا کتنا میرؔ بھی ناداں تلخی کش دم دار آب تیغ کو اس کے آب گوارا جانے ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

ہستی اپنی حباب کی سی ہےیہ نمائش سراب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

نازکی اس کے لب کی کیا کہیے پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں

میرؔ ان نیم باز آنکھوں میںساری مستی شراب کی سی ہے

— میر تقی میر
غزل دیکھیں